Tag Archives: خود شناخت

دو جنس

بائسیکشول / دوجنس وہ انسان ہ جو کہ قربت کے تعلقات کے لیے مردوں اور عورتوں دونوں کی جانب مائل ہو سکتا ہےـ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دو جنس فرد کے ایک سے زیادہ افراد سے قربت کے تعلقات ہونگے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو جنس فرد قدرتی طور پر  خود کو مرد یا عورت دونوں میں سے کسی کی طرف جنسی اور رومانی طور پر مائل محسوس کرے گاـ

یہاں ہم نے دو جنس لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ ہمیں اس کے لیے یہی اصطلاح سب سے مناسب لگی ـ اگر آپ کے  زہن میں کوئی اور لفظ آتا ہے تو ضرور ہم سے رابطہ کریں ـ

اور یاد رکھیں: یہ جسم اور زندگی آپ کی اپنی ہے اور آپ کو پورا پورا اختیار ہے کہ آپ جس طرح چاہیں خود کی شناخت کروائیں اور جو لفظ بھی چاہیں اپنے جنسی میلان کے لیے استعمال کریں اور اس میں ہم آپ کا ۱۰۰ فیصد ساتھ دیں گےـ

گے

ابتدا میں لفظ گے کو “خوش باش” یا “بے فکر” کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا مگر ۱۹ صدی کے اوائل میں اور بد تریج بیسویں صدی میں یہ لفظ اُن مردوں کلیے استعمال کیا جانے لگا جو کہ جنسی اور رومانوی طور پر دوسرے مردوں کی طرف مائل ہوں اور اُن کے ساتھ قربت کے تعلقات قائم کریں ـ پاکستان میں گے مردوں کی کثیر تعداد اپنے جنسی میلان کی شناخت کے لیے یہ لفظ بغیر کسی دقت اور شرم کے استعمال کرتے ہیں ـ

عام طور پر اردو زبان میں مردانہ ہمجنسیت کے لیے “ہمجنس پرست” کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر اِس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ لفظ “پرست” کا استعمال کسی مذہب کے پیروکار کے لیے استعمال ہوتا ہے، لہذا یہ لفظ اُس محبت، وفا، قرب اور باہمی عزت کو بیان کرنے سے قاصر ہے جو کہ مردانہ ہمجنسی تعلق میں موجود ہوتی ہےـ اِس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم یہاں پر ہمجنس مرد کا لفظ استعمال کر رہے ہیں جس سے مراد  گے ہےـ

تاہم یہ بھی زہن میں رکھیں کہ یہ جسم اور یہ زنگی آپ کی اپنی ہے اور آپ کو پورا پورا اختیار ہے کہ آپ جس طرح چاہیں خود کی شناخت کروائیں، جو چاہیں وہی لفظ اپنے جنسی میلان کے لیے استعمال کریں اور اس میں ہم آپ کا ۱۰۰ فیصد ساتھ دیں گےـ

لیزبیئن

لیزبیئن انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا ماخذ قدیم یونان کا لیزبوس نامی ایک جزیرہ ہے جہاں مشہورِ زمانہ شاعرہ سافو نے زندگی گزاری اور عورتوں کے متعلق رومانوی شاعری لکھی ـ عام طور پر لفظ لیزبئین سے مراد ایسی عورت کے ہیں جو کہ رومانوی اور جنسی طور پر دوسری عورت کی طرف مائل ہو اور اس کے ساتھ قربت کے تعلقات قائم کرےـ

جہاں خواتین کی ایک بھاری تعداد اپنے جنسی میلان کی وضاحت کے لیے اس لفظ کا خوش دلی سے استعمال کرتی ہیں، وہاں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو اس لفظ کو تحقیر آمیز سمجھتی ہیں اور اسے استعمال نہیں کرتیں ـ بعض افراد اس وجہ سے بھی اس کے استعمال پر تنقید کرتے ہیں کہ یہ لفظ ہمارے سماج اور ثقافت کا آئینہ دار نہیں بلکہ ایک مغربی زبان کا لفظ ہے جو کہ پوری طرح ان جذبات اور احساسات کا اظہار ہیں کر پاتا جو خواتین محسوس کرتی ہیں ـ

یہاں ہم نے اردو زبان سے ہمزن کا لفظ استعمال کیا ہے جو کہ مندرجہ بالا جذبات کی بخوبی نمائندگی کرتا ہےـ تاہم یہ بھی زہن میں رکھیں کہ یہ زندگی آپکی اپنی ہے اور آپ کو پورا پورا اختیار ہے کہ آپ جس طرح چاہیں خود کی شناخت کروائیں، جو چاہیں وہی لفظ اپنے جنسی میلان کے لیے استعمال کریں اور اس میں ہم آپ کا ۱۰۰ فیصد ساتھ دیں گےـ