Tag Archives: خواجہ سرا

ہیجڑا

ہیجڑا، جو کہ اکثر تحقیر آمیز معنی میں استعمال ہوتا ہے، جنوبی ایشیا میں عام طور پر ایک منظم کمیونٹی کی شناخت دیتا ہے جس میں زیادہ تر تو ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی پیدائشی صنف مرد قرار دی گئی مگر اپنے آپ کو عورت جانتے ہیں، مگر ان کے علاوہ مخنث، زنانہ، لیباس بدل کر دوسری صنف کا روپ لینے والے، حتی کہ ناچ گانے کے ذریعہ سے روزی کمانے والے مخالف جنس مرد بھی شامل ہوتے ہیں ـ

تاہم زیادہ تر یہ لوگ اپنے لیے خواجہ سرا کا لفظ استعمال کرتے ہیں ـ روایتی طور پر خواجہ سرا افراد شادی بیاہ کی تقریب میں ناچ گا کر اور کسی کی فوتگی پہ پسماندگان کے ساتھ مل گر بین کرنے کا کام کرتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، سمام میں بڑھتے ہوئے تعصب کے باعث اب خواجہ سراؤں کی ایک بھاری تعداد بھیک مانگنے اور جسم فروشی کرنے پر مجبور ہیں ـ

خواجہ سراؤں کے لیے مختلف فلاحی تنظیموں کے آنے سے اور پڑھے لکھے خواجہ سراؤں کے منظرِ عام پہ آنے سے اب ایک بھاری تعداد خود کو ٹرانزجینڈر کہتی ہیں ـ لہذا یہ ضروری ہے کہ جب بھی آپ اس کمیونٹی کے کسی فرد سے ملیں  تو ان کے لیے اسی لفظ کا استعمال کریں جو لفظ وہ چاہتے ہیں ـ

اور یہ بھی زہن میں رکھے کہ یہ جسم اور یہ زندگی آپ کی اپنی ہے اور آپ کو پورا پورا اختیار ہے کہ آپ جس طرح چاہیں خود کی شناخت کروائیں اور جو لفظ بھی چاہیں اپنے لیے استعمال کریں اور اس میں ہم آپ کا ۱۰۰ فیصد ساتھ دیں گےـ

Hijra

Hijra is a South Asian word, often but not always used in derogatory manner to refer to an organized community of mainly trans-women, but also including intersex people, effeminate gay men, cross dressers and even straight men that do drag and dance for a living. In Pakistan, the appropriate and respectful term is Khwajasara.

Traditionally, Khwajasaras have earned their living by dancing in weddings, celebrating births and mourning with families at funerals. Over tim, with  increased social ostracization, many are now also earning through begging and sex work. More recently, khwajasaras have also started identifying as Transgender, especially as visibility and activism from within the Khwajasara community increases.

Therefore, when meeting a trans* woman from the Khwajasara community, it’s best to ask her what term she prefers.

And please always remember: it is your body and your life, and whatever you want to call yourself, that is your full right and entitlement and we support it one hundred percent.